نئی دہلی،15؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی سے پوچھ تاچھ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ لگاتار تین دنوں سے تقریباً 10-10 گھنٹے ہو رہی پوچھ تاچھ کے باوجود ای ڈی افسران کے سوالات ختم نہیں ہوئے اور راہل گاندھی کو ایک بار پھر جمعہ یعنی 17 جون کو طلب کیا گیا ہے۔ یعنی تین دنوں کی لگاتار پوچھ تاچھ کے بعد جمعرات کو اس پوچھ تاچھ سے راہل گاندھی کو راحت ملی ہے، لیکن جمعہ کو انھیں پھر سے ای ڈی دفتر پہنچنا ہوگا۔
راہل گاندھی سے ہو رہی اس طویل پوچھ تاچھ پر کانگریس کے سرکردہ لیڈران و کارکنان سخت ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ لوک سبھا میں حزب مخالف لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے تو راہل گاندھی سے ای ڈی کی پوچھ تاچھ معاملے پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط بھی لکھ دیا ہے۔ خط میں لوک سبھا اسپیکر سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے مداخلت کریں کیونکہ راہل گاندھی کو بلاوجہ پریشان کیا جا رہا ہے۔ خط میں ادھیر رنجن نے لکھا ہے کہ ’’ہمارے ساتھی راہل گاندھی سے ای ڈی لگاتار تین دن سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ روزانہ تقریباً 10 سے 11 گھنٹے پوچھ تاچھ کی جاتی ہے۔ رکن پارلیمنٹ کے ساتھ اس طرح کا سلوک غیر انسانی ہے۔ اس میں سازش کا اندیشہ ہے۔ ہم سبھی آپ سے مداخلت کرنے کی امید کرتے ہیں۔‘‘
اس درمیان مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے راہل گاندھی سے ای ڈی کی پوچھ تاچھ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح سے ای ڈی افسران راہل گاندھی کے ساتھ تین دنوں سے پوچھ تاچھ کر رہے ہیں، وہ کسی بھی طرح سے مناسب نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی سے ہو رہی لگاتار پوچھ تاچھ پر اپوزیشن پارٹیوں کے کئی لیڈران نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ این سی پی اور شیوسینا لیڈران نے مرکز کی مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے حریفوں کے خلاف ای ڈی کا غلط استعمال کر رہی ہے۔